|
دوستي کا حاصل
ميري زندگي ميں شامل کئي اور بھي دکھ ہونگے
مگر ان دکھوں سے بڑھ کر تيري دستي کے ہونگے
کل راستے ميں مجھ سے اک سنگ نے کہا يہ
اسي دوستي کے بدلے ہم تيرے سنگ ہونگے
کبھي دوستي سے پہلے کبھي دوستے کے بعد
ميرا دل جو پي رہا ہے يہي زہر جام ہونگے
کہيں قتل زندگي ہے کہيں خون دوستي ہے
يہ جو آرہا ہے موسم يہي کام عام ہونگے
گر کوئي جو مجھ سے پوچھے ميري زندگي کا حاصل
کبھي تير اک خوشي تھا اب اپنے سائے ہونگے
|