ميري زندگي کے مالک تو ہي حوصلہ دے مجھ کو
کہ يہ درد زندگي کے سہے جارہا ہوں ميں
مجھے چھوڑ کر اکيلا تو نہ خوش ہوا اے ظالم
تري اک ہنسي کي خاطر روئے جارہا ہوں ميں
تيرا شکريہ ادا اے جاناں تو نے زخم دئيے ايسے
کہ جو بھر گئے ہيں ليکن سئيے جارہا ہوں
تيرے حسن کو پرکھوں يا تيري بے وفائي ديکھوں
يہي فيصلہ تو اب تک ئے جارہا ہوں ميں
تنہائي کے اس دور کي حالت نہ کوئي پوچھے
جيتا ہوں مگر روز مرے جارہاہوں ميں
|