تم ظلم کرو يا ستم کرو گلہ ہم نہيں کرتے n قينا خزاں ميں پھول کھلا نہيں کرتے مٹا دو خيال ميں مگر يہ ياد رہے ہم جيسے دوست پھر ملا نہيں کرتے ہزاروں غم ہيں ليکن آنکھ سے نکلتے نہيں آنسو ہم اہل ظرف ہيں پيتے ہيں چھلکايا نہيں کرتے