|
آج کل زمانے ميں بڑي بے وفائي ہے
پيار کرکےمجھ کو ملي برسوں کي جدائي ہے
وہ بچھڑ کے ہم کو ملا نہيں پھر دوبارہ
جن کي اميد سے دنيا نئي بسائي ہے
اچھا نام ديا دل لگانے کا اس نے
کي جہاں ميں جي بھر کر ہماري رسوائي ہے
جس کو سمجھا تھا ساتھي وفادار ميں نے
وہ تو نکلا لو گو يار بڑا ہرجائي
اس نے توڑا ہے دل شيشے کي طرح ميرا
اس کو ياد نہ آيا کوئي خدا کي خدائي ہے
جو ہيں بھول گيا جاکے قسميں وعدے اپنے
دل تو اب کتنا ہوا ہي اس کا ہي سودائي ہے
اب کتنا بدل گيا ہے وہ اک پل بھر ميں
جن کي خاطر ہر شے کو ٹھوکر ہم نے لگائي ہے
|