|
عجب درد بن کر
عجب درد بن کر ميرے دل ميں اترتا ہے
جب وہ شخص ميرے شہر سے گزرتا ہے
خزاں کي زد ميں کب کوئي نکھرتا ہے
خود ہي آئيں لہريں اور چھو کر چلي گئيں
اب کہتي ہيں کہ ساحل ہم سے بچھڑتا ہے
يہ سوچ کر ميں بھول جاتا ہوں اس کو
کوئي پتا کب بچھڑتا کہ شجر سے ملتا ہے
يہ چاند کيوں روشني پھيلا کہ چھپ گيا
ہر روز يہ کيوں ہميں ستانے کو نکلتا ہے
آج کہتي ہو کہ بھول جائو مجھ کو
جبR.m تجھے اپني ہر غزل ميں لکھتا ہے
|