|
آنچل گنگناتے ہوئے آنچل کي ہوا دے مجھ کو
انگلياں پھير کے بالوں میں سلا دے مجھ کو
جس طرح فالتو گلدان پڑے رہتے ہيں
اپنے گھر کے کسي کونے لگا دے مجھ کو
ياد کرکے مجھے تکليف ہي ہوتي ہے
ايک قصہ ہوں پرانا سا بھلادے مجھ کو
روٹھنا تيرا ميري جان ليے جاتا ہے
ايسے ناراض نہ ہو ہنس کے دکھا دے مجھ کو |