|
ہم نے ہر چہرے کو تصور تيري تصوير کيا
غموں کي دولت سےتونے ہميں امير کيا
ہم اگر ديکھتے تو بہت تھے ہميں چاہنے والے
مگر کچھ سوچ کے تجھ کو اپني تقدير کيا
تونے زمانے بھر کے درد کو ہماري جاگير کيا
جام اگر چاہوں جو پينا تو نہ ممکن ہے
ہاتھ پائوں کو ميرے يوں زلف گير کيا
تو نے سمجھا ہي نہيں اس قابل ورنہ
راشد وہ انمول تھا جسے تو نے فقير کيا
|