|
ہم نے جس سے بھي دل لگايا ہے
بے وفا ہي اس کو پايا ہے
جل رہا تھا جو چراغ الفت کا
زيست کي آندھي نے بجھايا ہے
آشياں جل گيا تھا وفائوں کا
بہت خوب صلہ ہم نے پايا ہے
جب بھي تنہائي ستائے مجھے
اک تجھے ہي قريب پايا ہے
کب ملي ہے يہاں پر آزادي
قيد جانے ميں جہاں کو پايا ہے
کيسے غم سے نجات ملے ہم کو
|