|
ہوا جب تيز چلتي ہے
تمہاري ياد آتي ہے
جب پتے سر سراتے ہيں
اور ذکر تمہارا ہوتا ہے
کبھي بھولے سے سب کو
ميرے دل ميں آکر ديکھو
ہے اک محفل سجي ہوتي
اور ذکر تمہارا ہوتا
تجھے کيسے بتائوں کتني چاہت ميں نے کي ہے تم سے
کہ جب بھي آنسو چھلکتے ہيں
اور ذکر تمہارا ہوتا ہے
کبھي چندا کو ميں ديکھو
کبھي تارے ميں گنتا ہوں
کبھي چاندني مسکراتي ہے
اور ذکر تمہارا ہوتا ہے
زمانہ ہے بہت ظالم
کہيں يہ چھين نہ لے تم کو
اس لئے ميں بس خاموش ہوتا ہوں
اور ذکر تمہارا ہوتا ہے
|