 |
|
|
خود کو |
خود کو اس دل ميں بسانے کي اجازت دے دو
مجھ کو تم اپنا بنانے کي اجازت دے دو
تم ميري زندگي کو سجانے کا اک حسين لمحہ ہو
پھولوں سے خود کو سجانے کي اجازت دے دو
ميں کتنا چاہتا ہوں کس طرح بتائوں تمہيں
مجھے يہ بتانے کي اجازت دے دو
تمھاري رات سي زلفوں ميں چاند سا چہرا
يہ جان تم پھر لٹانے کي اجازت دے دو
نہيں شوق راشد کو بھول کا مگر
مجھے يہ دنيا بھولنے کي اجازت دے دو
|
|
 |