|
جب سے گئے ہو تب سے ميري ذات ميں دکھ ہيں
دن تو دن ہے مگر ہر رات ميں دکھ ہيں
غيروں سے بچ نکلے تو اپنے الجھ پڑے
ايسا لگا کہ ميري ہر گھات ميں دکھ ہيں
جب کوئي نہ ہو درميان کا ہے کا اجارہ
محفل ميں تيرے سامنے تکلفات ميں دکھ ہيں
دکھ بانٹے اپنا جو شہر ميں تير نکلا
معلوم ہوا ميري طرح ہر ہاتھ ميں دکھ ہيں
کچھ بيتے ہوئے ہو وعدے کچھ ہيں تيري ياديں
اب زندگي ميں ہر پل ہر بازي خوشي سے
مغلوب ہو اس کے اس نے کہا، مات ميں دکھ ہيں
|