|
جسے ہم چاہتے تھے جسے ہم چاہتے تھے اسے نہ پاسکے
کوشش بہت کي مگر اپنا نہ سکے
سوچا تھا دل ميں اس کو لائے گے
قمست کا ارادہ تھا جسے ہم لا نہ سکے
ٹوٹ گئے سب وعدے ہمارے پکے يارو
ايک وعدہ بھي ہم پنا نبھا نہ سکے
بد نام ہم ہوئے در بدر بھي روئے تھے
اپنے پيار کے لچہيدے بھي توڑ وانہ سکے
وہ ادھر رول گئے ہم ادھر رول گئے
ايسے بچھڑے پھر ہم دونوں مل نہ سکے
نہ جانے وہ کيا سوچتا ہوگا اپنے دل ميں
کيوں چھوڑ گيا مجھے کچھ بھي بتا نہ سکے
جيتے جي ايسا تمہيں جيسا تو نے کيا
ہم تو ان سے بچھڑ کے مر بھي نہ سکے
بہر حال اس نے ميرے سر کي قسم کھائي تھي
وہ بھي اپنا وعدہ نبھا نہ سکے
|