|
جسے سمجھا ميں نے زندگي کا خواب يارو
جسے سمجھا ميں نے زندگي کا خواب يارو
وہ شخص تو ميرے ليے عذاب تھا يارو
مقصد زندگي سمجھ کر جس کے پيچھے بھاگے عمر بھر
اک دھوکہ تھا وہ سراب تھا يارو
ہم منسوب کرتے رہے پھولوں کليوں سے جسے
دہشت بيانان تھا مانند گرداب تھا يارو
جو ميري تنہائيوں ميں رہا با پردہ باحجاب
کل ديکھا غير کي مفل ميں بے نقاب يارو
مارے گا گل وہي مجھ کو لوگوں سے مل کر
ميں جس کي زباں پر کبھي آپ جناب تھا يارو
|