|
جدائي
نوچ کر شاخوں کے تن سے خشک پتوں کا لباس
زرد موسم کي بانجھ رت کو بے لباسي دے گيا
لے گياR.M وہ مجھ سے ابر بيتا آسماں
اس کے بدلے ميں زميں صديوں پياس دے گيا
اس کي جدائي کھاگئي کھن کي طرح ہميں
ہم سخت جان پہلے تو يوں کھوکھلے نہ تھے
جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا وہ بجا نہ تھا
اتنےبڑے بھي کب تھے اگر ہم بھلے نہ تھے
|