|
ميں نے اپني زندگي ميں دکھوں کو ہم سفر
پايا
اپنے آپ کو جلتا ہوا پايا
خوشيوں سے بہت دور غموں کو قريب پايا
لٹا لٹا سکون پايا
زخموں کو سہنے کي ہمت جواب دے گئي ہے
تنہائيوں سے وحشت ہونے لگي ہے
اکيلے پن سے خوف آنے لگا ہے
کوئي درد دل والا چاہئيے
زخموں پہ مرہم لگانے والا چاہئيے
زخموں پہ مرہم لگانے والا چاہئيے
تنہائيوں ميں مسکراہٹيں بکھيرے نے والا چاہئيے
وحشت کو رونق ميں بدلنے والا چاہئيے
جلتے اور جھلستے دل کو تھامنے والا چاہئيے
اگر کوئي ايسا ہے تو پھر خاموش کيوں ہے
مجھے پکارے ميں بھاگا چلا آئوں گا
|