|
نہ کسي سے مل کہ سکوں ملے نہ کسي کي ياد
ميں قرار ہے
دل مضطرب سب لٹا کے اب تجھے کس کا انتظار ہے
مجھے منزلوں سے جدا کيا مجھے راستے سے
بھي ہٹا ديا
دل بے اعتبار کي معصوميت کہ اسي راہمنائي کا اعتبار ہے
نہ چارہ گر کي تلاش ہے نہ رفوگر کے بس کي
بات ہے
زخم کا کہيں نشاں نہيں اور بدن دکھوں سے لاچار ہے
چلے تيري نگاہ سسے فيض سے ياں دل و جگر
کے يہ سلسلے
نہ تيري عنايتوں ميں کمي ہوئي نہ ميرے غم کا شمار ہے
روح تڑپ رہي ہے ميري جاں کو سکوں کي تلاش
ہے
روح بدن ميں مقيد ہے جس پہ دل وحشي کا اختيار ہے
اپنے ہي وہموں ميں بھاگ کے جائوں تو کس
طرح
ميري ذات کے اردگرد ميري ہي ذات کا حصار ہے
يہ روشني کا شہر ہے ھہاں کئي دھڑکنيں بے
قرار ہيں
وہ آواز سنائي نہ دے مگر جو ميري سماعتوں کا قرار ہے
کون سے رستے پہ چل کے پائيں گے بے بسي کي يہ منزليں
جہاں روح بے قرار اور دل بھي بے اعتبار ہے
|