|
پہلي وہ ملاقات، مجھے ياد ہے اب تک
کليوں سے وہ سنگھار مجھےياد ہے اب تک
جاتے ہوئے وہ مڑ کر ديکھنا تيرا
پھر جو دل کا حال مجھے ياد ہے اب تک
چاندني رات شوخ ہوا،تارو کي برات
اور ہاتھ ميں تيرا ہاتھ مجھے ياد ہے اب تک
ساتھ ہي گئے تيرے سب رنگ بہار کے
گلشن کي وہ فرياد مجھے ياد ہے اب تک
يادون کي شب شجر شاداب ہوگئے
اشکوں کي وہ برسات مجھے ياد ہے اب تک
|