|
صندل
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کردو
ميں صديوں سے ادھورا ہوں مکمل کردو
نہ تمہیں ہوش رہے نہ مجھے ہوش رہے
اس قدر ٹوٹ کر چاہو مجھے پاگل کردو
تم ہتھيلي کو ميرے پيار کي مہندي سے رنگو
اپني آنکھوں ميں ميرے نام کا کاجل کردو
دھوپ ہي دھوپ ہوں ميں ٹوٹ کر برسو مجھ پر
ميں تو صحرا ہوں مجھے پيار کا بادل کردو
اس کے سائے ميں ميرے خواب دھک اٹھيں گے
ميرے چہرے پہ مہکتا ہوا آنچل کردو
|