|
سکون نصيب ہوسکے گا تمام عمر بھر تجھ کو کيا
ميري طرح تجھے بھي راتوں کو نيند آسکے گي کيا
دشمنون مول لي ميں ميں زمانے سے تير خاطر
پرصلہ ديا تونے مجھے ميري وفائوں کا کيا
شکوہ تھ اہم سے کي بات پہ اگر تجھے بے قدر
اک بار کہا ہوتا تو خود کو بدل نہ ليتے کيا
نہيں ہے پروا اگر اسے کوئي تو ہميں ہماري يارو
نہيں ہے غم اگر اسے کوئي تو ہميں بھي کيا
ناز تھا تجھے جانے اپني کسي ادا پہ اے بے وفا
اس بھري دنيا ميں بس تو حسيں ہے کيا
توڑ گيا پل بھر ميں مجھ سے کئے عہد و پيماں وہ
کوئي پوچھے ايسے نبھائے جاتے ہيں وعدے وفا کے کيا
کل پہلي بار ہونٹوں سے ميرے بد دعا نکل ہي گئي
اب نتظر ہے بس کہ اثر وہ کر جائے گي کيا
کبھي تو سمجھ پائے گا وہ تمہاري وفائوں کو راشد
در اپنے اب بھي اسي آس پہ کھلا رکھتے ہو کيا
|