|
ٹوتا جو يہ دل ميرا تو کيا ہوا
چھوٹا جو ہاتھ تيرا تو کيا ہوا
نصيب والوں کو ملتا ہے پيار بدلے ميں
ساتھ جو جھوڑ گيا نصيب ميرا تو کيا ہوا
روٹھتے ہيں سبھي دو چار دن کو
تو نے جو عمر بھر کو منہ پھير تو کيا ہوا
خوش بھي رہتا ہوں ساتھ پھولوں کے
کانٹوں پر جو بسيرا ہے تو کيا ہوا
يقين جس پہ تھا خود سے بڑھ کر مجھے
توڑ ديا اس نے جو مان ميرا تو کيا ہوا
ڈر لگتا ہے مجھے اندھيري راتوں سے
اب بھيانک ہے ہر سويرا تو کيا ہوا
|