|
وفائوں کے بدلےہم کو جفائيں مليں
محبتوں کي ہم کو سزائيں مليں
ميرے اعتبار کي کرچيان کرنے والوں کو
خوشي کے پہلو ميں چتائيں مليں
جب سے کيا تحرير کچھ ريت پر
مقدر ميں تيز ہوائيں مليں
نہيں ہوتي آنکھوں سے برسات ختم
جن سے کسي سي نگاہيں مليں
ہم نے اسے چاہا سدا سے لے کر
پھر کيوں نہ ہم کو وفائيں مليں
جب چاہا موت آجائيں
زندگي کو ہم دعائيں مليں
|