|
وہ بھي رسم دنيا نبھتا رہا ہم بھي رسم دنيا نبھاتے رہے
وہ بھي رسم دنيا نبھاتا رہا ہم بھي رسم دنيا نبھاتے رہے
وہ بھي ہم کو فريب ديتا رہا ہم خود سے فريب کھاتے رہے
اسے ہم سے کہاں پيارا تھا ہم دل لگي کا سامان تھے
وہ ہميں کھلونہ سمجھتا رہا ہم بھي خود کو يہي سمجھاتے رہے
اسي اک کشمکش ميں ہي ميري ساري زندگي گزرگئي
وہ دل پہ زخم لگاتا رہا ہم دل پہ زخم کھاتے رہے
جسے ہم سمجھے تھے پيار کبھي وہ فقط حسين دھوکہ تھا
ہم پيار کي عزت رکھتے رہے اور اپنا آپ جلاتے رہے
انتظار کي حد جب ختم ہوئي اور دل ديوانہ ٹوٹ گيا
تب ہميں پتہ يہ چلا ہم سب کچھ ہي تو لٹا تے رہے
|