|
ياديں
اس کي ياديں ہي ميرے جسم کي سانيس ٹھريں وہ اگر نہ آيا تو ميں مر
جائوں گا ياديں ايک تازہ پھول کي مانند ہوتي ہيں اورتلخ زہر کا گھونٹ بھي جدائي
کےبعد جب يادوں کے چراغ روشن ہوتے ہيں تو دل کو داغ کسي اپنے کي ياد ميں جل اٹھتے
ہيں اور اس قدر جلتے کہ ان کا غبار آنکھوں سے صاف اور شفاف عياں ہوتا ہے اور تسلي
دينے والا کوئي بھي نہيں ہوتا اس وقت اپنے بھي پرائے ہوجاتے ہيں ياديں ابتدا ميں
کچے دھاگے کي طرح ہوتي ہيں ليکن اس کےبعد آہستہ آہستہ لوہے کي مانند تاريں بن جاتي
ہيں جس کے پنجرے ميں شخصيت محصور ہوجاتي ہے
|