|
اب وہ اتنا خفا ہے کہ خواب ميں نہيں آتا
گلاب ہے اور نظر فصل گلاب ميں نہيں آتا
ميں فقط ايک ايسا بد نصيب لفظ ہوں جو
اسکي پسنديدہ کسي بھي کتاب ميں نہيں آتا
خوش رہيں بھي تو ہم اداس اس تصور ميں
کہ کوئي دوست ملنے شب مہتاب ميں نہيں آتا
تم نے تو محبت کي ہے عشق نہيں کيا اداس
طوفان سمندر ميں آتا ہے تالاب ميں نہيں آتا |