|
ايسي بھي کيا ہوئي خطا ہم سے
کہ تم ہو اس قدر خفا ہم سے
ہر شے پوچھتي ہےترے روٹھنے کا سبب
کيا کہوں کہ ہو کيوں خفا ہم سے
بات بات پہ لڑنے سے کيا حاصل
اک بار کہو کيا جرم ہوا ہم سے
ہم ترے خواب سے کيا محروم ہوئے
کہ نيند تک ہماري ہے خفا ہم سے
ہم اپني بات پہ قائم ہيں آج بھي
دور تمہيں پر کس نے کيا ہم سے
يہ ايک جين کا سہارا کيا کم ہے
کہ تم ہو شاد ہو کر جدا ہم سے
گوکہ شب روشن ماہ و اانجم سے ہوئي
پر ہوا رات کا حق ادا ہم سے
اسے نصيب کہوں يا طبعيت کا نہ ملنا
کسي بھي شخص نے نہ کي وفا ہم سے
گئے موسم تھے بہت اچھے اے اداس
يہ آج کل کے موسم نے کہا ہم سے |