|
اے دل مرے اشک بہانے سے کيا ہوگا
ہو جائے گا جو تقدير ميں لکھا ہو گا
مجھ سے وہ اس لئے نہيں ملتا ہوگا
مرے بارے ميں کسي نے کچھ کہا ہوگا
ياد تو آئے گي اسے چاند کي آب و تاب
شب تاريک ميں وہ تنہا ہوگا
گلوں سے بد گمان ہے شايد اس لئے
لباس گل ميں اسے خار مل گيا ہوگا
ميں سوچ رہا ہوں اس کے بارے ميں
کہ اس وقت وہ کيا کر رہا ہوگا
تھا وہ رخصت ہوتے وقت اداس
مگر رفتہ رفتہ بہل گيا ہوگا
|