|
درد کا ايک پرندہ ميں نے پالا ہے
جو ہر حال ميں دکھ دينے والا ہے
ترچھي ترچھي نگاہوں سے تم نے
ديکھنے والوں بس مار ہي ڈالا ہے
سب سورج کي مہرباني ہے ورنہ
ہر ايک رنگ تو ہوتا کالا ہے
کيا مانگا تھا ميں نے اس سے
کشکول ميں اس نے کيا ڈالا ہے
تم سے پہلے تو صرف اندھيرا تھا
ترے آنے سے ہر طرف اجالا ہے
ڈوبنے والا نہ ڈوب سکا رضوان
شايد سمندر بھي کوئي دل والا ہے
|