|
دل مرا اداس ہي کر گيا انکار تيرا
مجھ پہ تھا اتنا ہي بس اعتبار تيرا
دل ہو ميرا اور رہے اختيار تيرا
انوکھے سے انداز کا ہے کاروبار تيرا
اندھيرے ميں تير تو چلا کے ديکھ
ميرے سوا کوئي نہ ہوگا شکار تيرا
کون بھول سکتا ہے دو پل کي خوشي
ياد رہے گا تا حيات پيار تيرا
اگر لوٹنا چاہوں تو کبھي لوٹ آنا
اداس کو رہے گا صرف انتظار تيرا
|