دل سمندر ميں طوفان آتے ہيں روز
طوفان کي زد ميں انسان آتے ہين روزدن بھر کي مسکراہٹ کے باوجود
گھر ميں واپس پريشان آتے ہيں روز
پھر تو آپ خوش بخت ہوئے
آپ کے ہاں مہمان آتے ہيں روز
نہيں ملتا اس کا کہيں سراغ
شہر کے شہر چھان آتے ہيں روز
وہ خواب و خيال کي نگري ميں
سچ تو يہ ہے رضوان آتے ہيں روز |