|
غموں سے مجھ کو پتھر نہ کر
تو ہر قطرے کو سمندر نہ کر
اپني حدود ميں رہنے دے
يوں در بہ در نہ کر
مجھے قبول تري ہر بات ليکن
اس رات کي سحر نہ کر
اس کنجشک کسيے کہوں تجھے
کہ مرے گھر ميں گھر نہ کر
آنکھوں سا فاصلہ ہوجائے گا
دور ہميں دنيا اس قدر نہ کر
برسا کہ بجلياں بے رخي کي
دل کي زمين بنجر نہ کر
لے تلوار مري اور مجھے کاٹ
ليکن معدوم نعمت شجر نہ کر
اداس ہے شہر کا موسم ابھي
ابھي تو ارادہ سفر نہ کر
|