|
گھر ميرا بھي عشق نے اجاڑا ہے
نحل سر سبز جڑوں سے اکھاڑا ہے
اور تادم مرگ مرے سينے ميں
نم ناک تنہايوں کا علم گاڑا ہے
اس عشق نے کتني شائستگي کے ساتھ
ورق آرام کتاب حيات سے پھاڑا ہے
اور بھي دنيا کے ہجوم ميں لوگ تھے
جانے کيوں عشق نے مجھي کو تاڑا ہے
رنگ حنا اتر جائےگا اے لڑکيوں
رنگ عشق نہيں اترے گا بہت گاڑا ہے
ہميں کسي اداس سے راگ نے نہيں
عشق کي چھم چھم نے بگاڑا ہے
|