|
ان نگاہوں سے يوں تم اشارے نہ کرو
پيدا زمانے ميں دشمن ہمارے نہ کرو
محبت کے دريا ہيں دلوں سے گہرے
پار کچے گھڑوں کے سہارے نہ کرو
جل جائو گے عشق ميں يہي بہتر ہے
تلاش اس راکھ ميں شرارے نہ کرو
پھر لوگ کہيں گے رضوان اداس تمہيں
لوگوں کے سامنے شمار ستارے نہ کرو
|