|
کبھي ديکھ مري نظر اس زمانے کو
دل چاہے گا ترا بھي اشک بہانے کو
يہ وقت يہ کہتا ہے کہ دل کا بھيد
نہ اپنے کوہم ديں نا ہي بيگانے کو
کيا کروں ميں اپنے بس ميں نہيں
دل چاہتا ہے اس کي طرف جانے لو
اک خواب ادھورا ہے جو برسوں سے
اب بھول بھي دل اس خواب سہانے کو
موسم کي طرح بدل گيا ہر ايک کوئي
نہ جانے کيا ہوا اداس زمانے کو |