کہاں ہو لطف زندگي آؤ ميں اکيلا ہوں
مجھے يوں چھوڑ کر نہ جاؤ ميں اکيلا ہوںآئے ہو بڑے دنوں کے بعد خيال يار
مرے پاس ہي ٹھر جاؤ ميں اکيلا ہوں
ہزاروں لوگ ہيں مرے اس شہر ميں
ليکن کيوں مجھے بتاؤ مين اکيلا ہوں
اے اس رات کے پر حول سناٹوں
مجھے اس قدر نہ ڈراؤ ميں اکيلا ہوں
فلک پہ بکھرے ہوئے ٹمٹماتے ستاروں
مجھ سے ہمکلام ہو جاؤ ميں اکيلا ہوں
کہوں جو کہنا ہے تمہيں رات کي راني
آج کہہ دو نہ شرماؤ ميں اکيلا ہوں
چل کہ مرے ساتھ قدم دو چار
بھلا اندازہ تو لگاؤ ميں اکيلا ہوں
فقط يہي نہ سوچ کے اے اداس
مرے لئے ہي دعا فرماؤ ميں اکيلا ہوں |