|
خدا اے خدا ابھي يہ شام رہنے دے
وفا کے باب ميں اسکا نام رہنے دے
نہ چھين مجھ سے يہ مري تنہائي اب
مرے ذمے کوئي مستقل کام رہنے دے
جانتا ہے جہاں کہ نہيں ہوں دل فروش
مگر دل پيشہ لے جا دام رہنے دے
وہ تو پختہ تھے ہر لحاظ سے ہمدم
نہ کر منسوب ان سے خام رہنے دے
ابھي اداس ہوں جي نہيں لگتا کہيں
ابھي ٹہرو زرہ ميخانہ و جام دہنے دے
|