|
نہ بيچ اداس دنوں کے واقعات
ورنہ پوچھے گا زمانہ کئي سوالات
بوٹے شجر ہوئے کئي بار موسم بدلے
نہيں بدليں تو اس کي عادات
کمي تو پوري اب بھي ہو جائے
ليکن وہ سمجھے اگر ميرے جذبات
ايک جسم دو ہيں ارواح تو پھر
جدا جدا ہيں کيوں خيالات
آتا ہے مرا نام ان کے لب پر
اپنےدر پہ آنے جانے تو دے
چاہے دے نہ دے مجھے خيرات
اداس نہ ہو اداس اميد يہ رکھ
بدليں گے ايک دن تو حالات
|