نصيب ميں مرے کيا ہے مجھے نہيں پتہ
تو با وفا کہ بے وفا ہے مجھے نہيں پتہميں تيرا ہوں مجھے معلوم ہے يہ
کيا صرف تو مرا ہے مجھے نہيں پتہ
راہ ميں اک پتھر سے کھائي ہے چوٹ
گھاؤ کتنا گہرا ہے مجھے نہيں پتہ
مانگا ہے کيا اور وہ دے گا کيا
خدا تو آخر خدا ہے مجھے نہيں پتہ
جان لو اتنا کہ ہے رضوان اداس
کس طرح کب ہوا ہے مجھے نہيں پتہ |