تم کہتے ہو کہ ترے آنے سے کيا ہوگا
ميں جانتا ہوں جو ايک حشر بپا ہوگاگلي کے ہر کونے پہ اک شخص کھڑا ہوگا
صرف اور صرف راہ مري ہي ديکھتا ہوگا
موجود دل ميں تمہيں ديکھنے کا ولولہ ہوگا
گو کہ اک ہجوم گستاخ مجھے روکتا ہوگا
فقط مجھ کو تري ہي محبت کا آسرا ہوگا
مگر گلي ميں تري ہو کوئي پتھر ڈھونڈتا ہوگا
تم سے کيا ہوا ہر عہد اگر وفا ہوگا
مرا نصيبہ تو پھر سب سے پيارا ہوگا
ظلم اے دھڑکنے اداس آخر کتنا ہوگا
بس مار دے گي دنيا جان سے اتنا ہوگا
ستم ايسا نہ کبھي اس سے پہلے ہوا ہوگا
دنيا کے ہر اخبار ميں صاف يہ لکھا ہوگا |