|
اندھيري رات کي طرح اندھيرا اچھا رہا تھا
بھيگي برسات کي طرح آنسو بہا رہا تھا
شايد کچھ سوچ رہا تھا وہ
اپنے کئيے پر پچھتا رہا تھا
اب کہاں ملو گے تم
وہ اشکوں سےبتا رہ تھا
محبت ہر کسي کو کب ملتي ہے
شايد وہ يہي بتا رہا تھا
پھر جب ملا مجھے وہ شاکر
کہتا ہے تيري ياد ميں دل جلارہا تھا
|