|
کبھي سوچا ہو تنہا کدھر جانا چاہئيے
اک نظر سے دل ميں اتر جانا چاہئيے
اچاٹ سے لگ رہے ہو تم
يہ نہ کہنا کہ مرجان چاہئيے
کئي بار کہا دل سے ہم نے
تجھ سے بچھڑ کر کہيں دور چلے جانا چاہئيے
جب بھي ملے ہر بار ملنے کا کہا
سائے کو بھي اب سخن بن جانا چاہئيے
شايد ممکن ہي نہ ہو
زخم اک بار کھلا اور اسے بھر جانا چاہئيے
کل خواب ميں ميري اس ملاقات ہوئي
ميں نے سوچا اسے حقيقت بن جانا چاہئيے
دل ميں لگي ہوئي آگ نے کہا
لے لپٹ ميں سحر اور جل جانا چاہئيے
|