|
نکلے بے وفا کي ياد ميں تو اک انجانہ روپ تھا ديکھا
سمجھ نہ سکے ہم کہ اک جانا روپ تھا ديکھا
سوچا ہوگا اس وقت تم نے
جب اک بے وفا کا چہرہ تھا ديکھا
ديکھ رہا تھا زمانہ يہ سارا
جب اس نے ميري طرف تھا ديکھا
اشکوں سے کچھ کہ رہا تھا وہ
جب ميں نے اس کي طرف تھا ديکھا
شايد پھر يہ وہي اظہار تھا
جو برسوں پہلے ہم نے تھا ديکھا
اب کچھ سوچ رہے تھے تم کہ
وہي روپ ہے جو برسوں پہلے تھا ديکھا
برسوں بعد جب ملے تھے ہم شاکر
گلاب کے پھول پر اک شبنم کا موتي تھا ديکھا
|