|
ايک مدت ہوئي
اس کو ديکھے ہوئے
اسکو سوچے ہوئے
وہ
جسے ميں بہت چاہتي تھي
اتنا کہ
مجھے کسي اور کي چاہت نہ تھي
کسي اور کي خواہش نہ تھي
وہ ميري تمنا ميري دعا تھي
آج
نہ جانے کيوں؟
ايسا لگتا ہے
جيسے ميں نے اس کو بھلا ديا ہے
اسے خود سے جدا کيا ہے
خود کو محفل ميں تنہا کيا ہے
اور اب
مجھے اس کي بھي خواہش نہيں
اس کي چاہت نہيں
آج ميں تنہا ہوں
اجڑے پيڑ کي طرح
مگر آج بھي
اگر وہ چاہے تو
مجھے بہار کرسکتا ہے
کيوں کہ آج بھي
ميں اس کي ہوں
کل کي طرح
اک مدت سے
جسے
ميں نے ديکھا نہيں
سوچا نہيں
ميں نےسوچا نہیں
آج بھي ميں
اسي کي ہوں مہر
صرف اس کي۔۔۔۔۔۔
|