|
ميں کيا کہوں کہ
ميرے شہر ميں اب کہ کيا رت چلي ہے
يہاں سارے منظر بدل رہے ہيں
اپنے رستے بدل رہے ہيں
اجنبي اپنے سے لگ رہے ہيں
نفرتوں تپتي دھوپ ہے
اور سائے آگے چل رہے ہيں
تمہيں پتہ ہے کہ
ساتھ چلنےکے خواب سارے
محبتوں کے نصاب ہمارے
تيرے عہد قول و قرار سارے
چاہتوں کے حجاب سارے
رفتہ رفتہ مکر رہے ہيں
تمہي بتائو کہ ايسي رت ميں۔۔۔۔
جب ہم سفر کا ساتھ بھي ہے
ہم سفر کي تلاش بھي ہے
پھر ايسي رت ميں کون کس کو
محبتوں کا جواب دے گا
ہجرکي ان گنت اذيتوں کا حساب دے گا
کون ہوگا محبت کے کھلتے گلابوں کا حق دار
کون ٹھرے گا اس کي خطائوں کا سزاور
تمہي بتائو کہ
ايسي رت ميں
بہار آئي گي بس کس کي خاطر
کون خوشيوں کا نام لے گا
جہاں نہ کوئي چاہ باقي
نہ واپس کي راہ باقي
تو ايسي رت ميں
کون کس کو بے وفائي کا الزام دے گا
مہر
تمہي بتائوں کون کس کو۔۔۔۔۔؟
|