|
مجھے لوگوں کي پراوہ نہيں ہے
اک ترے سوا سکي کي چاہ نہيں ہے
مجھے چاہا ہے جس ساعت ميں ميں نے
مرے ساري عمر ہے اک لمحہ نہيں ہے
حرے بغير جينا دشوار ہو رہا ہے
ابھي ابتدا ہے محبت کي انتہا نہيں ہے
بہتر کہ تو مل جائے مجھے ہميشہ کيلئے
ورنہ کوئي اور زندگي کي راہ نہيں ہے
يہ اور بات ہے تو مرے پاس نہيں ہے
جان جاں تو مجھ سے جدا نہيں ہے
ترے پيچھے جانے کا کوئي فائدہ تو نہيں
يہ سچ ہے تو کوئي سراب يا سايہ نہيں ہے
بہت ممکن ہے مجھے چاہتوں کا صلہ نہ ملے
يہ قسمت کي بات ہے کوئي سزا نہيں ہے
ميں نے تو جسيے اسي سے ساري مشکيليں پائيں
کون کہتا ہے محبت ميں امتحان نہيں ہے
مجھے يقين ہے مہر کہ تم ميرے ہو مگر
لوگ کہتےہيں تجھ ميں وفا نہيں ہے
|