|
زندگي کے سفر ميں
خوابوں کے نگر ميں
کتنے تنہا تھے ہم
اپنےويران گھر ميں
خواہشون کي ڈگر پر
اک انجان رہگزر پر
ايک سہارا ہوے تم
ايک لمبے سفر پر
دل ميں ہزاروں ارماں لئے
سوچوں کا گہرا طوفان لئے
ايک دوجے کے سنگ ہم چلتے رہے
سفر کٹتا رہا دن گزرتے رہے
چلتے چلتے ہم پہنچے اک ايسي جگہ
جہاں سوچنا تھا کہ اب جانا ہے کہاں
ميں نے سوچا کہ ہم آسماں تک چليں
تم نے سوچا ہميشہ زميں پر رہيں
ميں نے بولا کہ قسمت کي لکيروں کو بدلنے دو
تم نے بولا جيسے گزري رہي گزرنے دو
ميں نے جو سنا تو آگے کچھ نہيں سوچا
ويسا ہي ہوا آخر جيسا تم نے بولا تھا
اب۔۔۔۔۔۔۔
دونوں گزار رہے ہيں بالکل ويسے
جيسے گزر رہي ہے۔
|