|
اگر ملوں کسي سي وہ درميان رہتا ہے
جو نہ بن سکا ميرا اسي کا دھيان رہتا ہے
دل کو کہا کتني بار اسے بھول جا
يہ سنتا ہي نہيں اس کے بنا پريشان رہتا ہے
اس نے کچھ ايسي باتيں کہہ ديں دل ٹوٹ گيا
اور اشارے سے کہا ابھي کچھ بيان رہتا ہے
وہ ميرے سامنے رہ کر بھي کتني دور ہے
جيسے زميں سے دور آسمان رہتا ہے
يقين نہيں آتا اس کي بے وفائي کا نديم
وہ اک دن آہي جائے گا يہي گمنا رہتا ہے
|