|
نيلي نيلي آنکھوں ميں بسا ليتے ہيں
جب کوئي خدشہ ہو تو وہ دل ميں چھپاليتے ہيں
اگر کبھي کبھار کسي بات پہ روٹھ جائے صنم
تو وہ اک اداسے مناليتے ہيں
محبوب کے آنے کي خوشي ميں وہ
اپني پلکيں راہوں ميں بچھا ليتے ہيں
کبھي اک دن ايسا بھي آتا ہے حسن والوں پر
نہ جانے اک چہرے پہ کتنے روپ سجا ليتے ہيں
ہم تو آج پھنس گئے اس جال ميں نديم
وہ لوگ اچھے ہيں جو خود کو اس سے بچاليتے ہيں
|