|
جا کہ اب تيرا اعتبار نہيں رہا
ميں تو وہي ہوں تو وہ نہيں رہا
وقت کے کٹھن سفر ميں دوپہر کو تو آنا ہي تھا
کيا ہوا جو اس دھوپ ميں تيرا سايہ نہيں رہا
ہم جسے سمجھتے رہے زندگي کا حاصل
وہ ہمارے ساتھ لمحہ بھر بھي تو نہيں رہا
تير بے وفائي کا ذکر کريں کسي سے ہم
کہ اب سننے والے پر بھي يقين نہيں رہا
جن قربتوں کو ہم ترستے تھے اک اک پل کيلئے
کب ان قربتوں کا بھي اثر نہيں رہا
اس قدرٹوٹ کر چاہنے کي سزا ملي ہم کو
کہ سنبھلنا چاہا تو سنبھلنے کا پارا نہيں رہا
خود ہي سميٹ لے خودکو اے صائمہ
کہ جے جس کا انتظار تجھے وہ اب تيرا نہيں رہا
|