|
جانے کيسے وہ محبوب سے جدا ہے
ورنہ اپني تو روح جان سے خفا ہے
پتھروں سے پيدا ہوا تو گيا ارتعاش سمندر ميں
اک اک لہر سے پوچھ اس پر گزري کيا ہے
ہم نے بھي نفرت ميں ہي پرکھا اس کو
محبت ميں تو وہ بھي جي جان سے فدا ہے
قربت کے لمحے کيوں بھلانے لگے اس کرب کو
جفائي ميں جوا کيلئے جو ہم نے سہا ہے
جھلکتي تھي جس سے سات سمندروں کي گہرائي
وہ محبت بھرا لہجہ اب کہاں چھپ گيا ہے
يہي قربتوں کا حال رہا تو پھر
ہم کو منظور جدائي کا ہي آسرا ہے
کيوں موسم کي طرح بدلنے کي بات کرتا ہے
وہ موسم ہے مگر تو انساں ہے
چلو پھر سے رخت سفر باندھيں مل کر
تنہا راہوں ميں بھلا رکھا کيا ہے
|