|
جانے کيوں وہ شکوہ نہيں کرتا
زخم کھانے کے بھي آہ نہيں کرتا
مانا کہ چپ رہنےکي عادت ہے اسے
مگر يہ کيا کہہاں اور نہ بھي نہيں کرتا
حالات کي چکي ميں تو پستا ہے ہر کوئي
مگر وہ کيوں آہ دفغاں نہيں کرتا
لفظوں کے ہيروں ميں پڑتا نہيں ہے وہ
لوگ کہتے ہيں کہ انداز بياں نہيں کرتا
اوروں کيلئے تو چاہتا ہے سب کچھ کرنا
پھر اپنے لئے کيوں کبھي ہاں نہيں کرتا
وقت کي ظالم کي لہروں ميں ڈوبتے ہوئے
تنکے کا بھي آسرا نہيں کرتا
پرائے تو کيا اپنوں سے بھي گلہ نہيں کرتا
جانے کيوں وہ شکوہ نہيں کرتا
|